سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملہ کس نے کیا؟ ایران کی تردید کے بعد نیا سوال
فوٹو : فائل
تہران : سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملہ کس نے کیا؟ ایران کی تردید کے بعد نیا سوال پیدا ہو گیا ہے، گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب پر واضح کر دیا ہے کہ ان کی طرف سے سعودی عرب کی آئل ریفائنری کو ہدف نہیں بنایا گیا.
ایرانی نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملہ ایران نے نہیں کیا، امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں ماجد تخت روانچی کا کہنا تھا کہ تیل تنصیبات پر حملہ نہ کرنے والی بات سعودی عرب پر واضح کردی ہے۔
واضح رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی تیل برآمد کرنے والی سعودی بندرگاہ راس تنورا میں ریفائنری پر ڈرون حملہ ہوا تھا جب کہ اسی طرح قطر میں بھی گیس تنصیبات ہدف بنی تھی تاہم قطر کے حوالے سے وضاحت نہیں آئی۔
سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈرون کے ملبے سے ریفائنری میں محدود نوعیت کی آگ لگی جس پر قابو پالیا گیا، کوئی شہری زخمی نہیں ہوا۔
اپنی 6 ہزار سالہ تہذیب کا دفاع کریں گے، علی لاریجانی
سیکریٹری جنرل ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ ایران نے لمبی جنگ کی تیاری کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی 6 ہزار سالہ تہذیب کا دفاع کریں گے، قیمت کچھ بھی ہو۔
علی لاریجانی نے کہا کہ دشمن کو اندازے لگانے کی غلطی پر پچھتانا ہوگا۔سیکریٹری جنرل ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ 300 سال کی طرح اس بار بھی جنگ میں پہل ہم نے نہیں کی
Comments are closed.