زنانہ حمایت میں مردانہ کالم

کامران خان 

خواتین کے حقوق کا عالمی دن پوری دنیا میں ہی منایا جاتا ہے لیکن عورت مارچ کا جو عملی مظاہرہ ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے اس کی مثال نا پید ہے۔جو وجہ پیش کی جاتی ہے وہ جھٹلائی نہیں جا سکتی۔ ایک مباحثے میں یہی سوال اٹھایا گیا کہ صرف ہمارے ملک میں ہی اس طرح کا عورت مارچ کیوں؟

جواب میں بھی سوال تھا کہ کیا کسی دوسرے معاشرے میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کو چھوڑ کر غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں؟ کیا جس شرح سے خواتین پر تیزاب پھینکا جاتا ہے ،یہ تیزاب گردی کسی اور ملک میں اس شرح سے ہوتی ہے ؟ کیا بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی وارداتیں اسی شرح سے ہوتی ہیں ؟جیسا کہ ہمارے یہاں اس معاشرے میں ہو رہی ہیں۔

اگران سوالات کا جواب ناں میں ہے تو پھر عورت مارچ کی منطق سمجھ میں آتی ہے۔ منطقی معیار پر دیکھا جائے تو عورت مارچ صرف مردانہ توجیہات کی ضد میں نکالاجاتا ہے ۔معاشرے میں مردانہ تسلط، زور، زبردستی، جبر، تشدد، جارحیت اور احساس برتری کے باعث ہی خواتین میں بغاوت کے جذبات نمو پاتے ہیںاور عورت مارچ اس بغاوت و احتجاج کا مظہر ہے.

جہاں ایک male dominated societyمیں عورتیں مردوں کی بے جا مداخلت و جارحیت کے خلاف اپنا catharsis کرتی ہیں ۔وقت نے ثابت کیا ہے کہ غیرت کے نام پر خواتین کے قتل جیسے رحجانات بھی بنیادی طور پر منافقت پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔

ایک مرد اتنا غیرتمند اور عزت دار ہے کہ وہ اپنی بہن کی جانب سے پسند کی شادی کا صرف اظہار کرنے پر ہی اسے غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے اور اتنا منافق ہوتا ہے کہ عدالت کے اندر ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا ہو کر پھانسی سے بچنے کے لیئے قتل سے منکر ہو جاتا ہے ، یعنی وہ غیرت جسکے سبب بہن کو اسکے شرعی حق سے محروم کیا اب وہی غیرت چھوڑ کر منافقت کا سہارا پکڑ لیا جاتا ہے۔

میں نے عدالتوں بے شمار ایسے شادی شدہ جوڑوں کو دیکھا جنہوں نے شرعی تقاضوں کو پورا کر کے پسند کی شادی کی لیکن لڑکی کے گھر والے انکی جان کے دشمن ہوگئے اور انہیں اپنی جان بچانے کے لیئے عدالت کے علاوہ کوئی اور پناہگاہ نہیں مل سکی۔کیا اسلام میں پسند کی شادی کی سزا موت ہے؟اگر نہیں توپھر عورت مارچ والیاں اسی شرع کے تحت جینے کا حق مانگ رہی ہیں۔

جائیداد میں حصہ لینا ہو تو قرآن سے شادی کر دی جاتی ہے، جھگڑا دو خاندانوں کے مرد حضرات کرتے ہیں اور صلح اور سمجھوتہ کے لیئے خواتین کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔ ونی ، سوارا، کاروکاری جیسے قانون عورتوں پر ہی آزمائے جاتے ہیں ان تمام قوانین کا مرد حضرات پر نہ اطلاق ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ان پر نافذ ہوتے ہیں۔

دیکھا جائے تو اس حوالے سے پوری معاشرت ہی منافقانہ رویوں سے آلودہ ہے۔ایک جنسی بھوک ہے جہاں ہر کوئی شکار کی تلاش میں نظر آتا ہے ۔ کیا یہ ہمارا معاشرہ نہیں کہ عورت باہر نکلے تو حریص نگاہیں، دست درازیاں ، اشارے کنائے ، بھپتیاں اور آوازیں کسنے والے مرد ہی تو ہوتے ہیں میں نے تو آج تک سر عام کسی عورت کو مرد کو ہراساں کرتے نہیں دیکھا۔عورتوں کے خلاف یہ منفی رویے مردوں کا ہی خاصہ ہے۔

اس معاشرے کی منافقت دیکھئے کہ گھر کی بیٹی کا کسی سے چکر کی ہوا بھی لگے گی تو انہیں اپنی کھڑی ناک کٹی ہوئی محسوس ہو گی لیکن گھر کا بیٹا کسی دوسرے کی بیٹی کے ساتھ کچھ بھی گل کھلائے تو عمومی طور پر اس کے عمل کو نو جوانی کی شرارت سمجھا جاتا ہے بلکہ اسکی مردانگی پر رزمیہ شاعری کی جاتی ہے۔

اس منافق معاشرے نے کوٹھے ٹاپنے والی یا کوٹھے سجانے والی عورت کو تو فاحشہ کا نام دے دیا لیکن تسکین سے فیضیاب ہونے والے مردوں کی شناخت کو پوشیدہ رکھا،بہت ہوا توانہیں تماشبین کا نام دے دیا ۔آپ کولغت میں طوائف کا مذکر بھی نہیں مل سکے گا۔ کیونکہ ہماری فحش نگاری بھی منافقت میں رچی بسی ہے۔

ساری کہانیوں میں مرکزی کردار طوائف کا بنا دیا جبکہ مرد کے بغیر کسی بھی طوائف کی کہانی نا مکمل ہے لیکن ایسی کہانیوں میں مرد کا دامن صاف اور عورت کی چنری کو ہی داغدار دکھایا جاتا ہے ۔تصور کیجیئے ایک جوان لاچار، بے سہارا، کنواری، بیوہ یا مطلقہ گھر میں ہی رہے تو معاشی طور پر عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہے.

اس معاشی رکاوٹ کو عبور کرنے کے لیئے باہر نکلتی ہے تو مسلم معاشرے میں گلی کے ہر نکڑ پر اور سڑک کے ہر موڑ پر بھیڑیئے موقع کی تاک میں موجود ہونگے، تجربہ کر کے دیکھ لیجیئے کوئی اکیلی عورت سواری کے انتظار میں سڑک کے کنارے کھڑی ہوتی نہیں کہ اس کی مدد کے لیئے گاڑیاں انڈیکیٹر لگا کر تھوڑا فاصلے پر رک جاتی ہیں اور پھر شیشے میں اپنے ممکنہ شکار پر نظر ڈالتی رہتی ہیں۔

جنسی بھوک کا شکار معاشرہ اچھے اور برے کی تمیز ہی بھلا بیٹھا ہے۔ بازاروں میں مردحضرات ہی غیر اخلاقی حرکات کے مرتکب پائے جاتے ہیں ، کسی عورت کی جانب سے مرد کے خلاف کبھی ایسی حرکات سننے کو نہیں ملیں ۔اور تو اور قبروں میں بھی بعض خواتین میت کو بھی درندے نہیں چھوڑتے۔

واعظ تو درست کہتے ہیں کہ عورت باہر ہی نہ نکلے تاکہ وہ ایسی خرافات کا شکار ہی نہ ہو سکے، یعنی دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ male chauvinist معاشرہ ہمیشہ اور ہمہ وقت مرد حضرات کی بالا دستی سے مغلوب رہے گا، مرد اپنی خو نہ بدلیں گے اس لیئے عورتیں گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں.

دوسری جانب عورت مارچ والیوں کا کہنا ہے کہ انہیں روکنے کی بجائے مرد حضرات بھی اگر اپنی آنکھوں کا پردہ رکھیں تو شاید معاشرے میں توازن پیدا ہو۔یہ بھی حقیقت ہے کہ واقعہ افک میں خدائی برات پر کامل یقین رکھنے والے بھی زوجین کے مابین انصاف میں ڈنڈی مارتے ہیں.

منبر سے اٹھنے والی اکثر آواز بھی عورت کو مردوں کے ذخموں سے رسنے والی پیپ پینے کا حوالے دیکر عورت کو بد زن کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور ایک مردانہ تسلط والے معاشرے کو دوام دینے میں برابر کے شریک ہیں ۔اگر میں کہوں کہ عورت مارچ مردانہ معاشرے میں معاشرتی منافقت کے خلاف جذبات کا اظہار ہے تو کیا یہ غلط ہو گا؟

ہاں ان جذبات کے اظہار کا طریقہ غلط ہو سکتا ہے ، انداز غلط ہو سکتا ہے، پلے کارڈز پر لکھے کلمات غلط ہو سکتے ہیں ،بلند کیئے جانے والے نعرے بے ہودہ کہلا سکتے ہیں لیکن اس اظہار و احتجاج کے پیچھے چھپے محرکات، جذبات و توجیہات منطقی ہیں۔

اب تو نئے منشور میں عورت مارچ کرنے والوں اور کرنے والیوں نے خواتین حقوق سے کئی قدم آگے بڑھ کر سماجی انصاف کے لیئے بھی آواز اٹھا دی ہے۔ اگر صاحب نظر افراد ضد بازی میں ہونے والے مارچ کے دوران خرافات کو نظر انداز کر کے پس پشت مطالبات و نظریات کو سامنے رکھیں تو انہیں شاید عورت مارچ سے ذیادہ معاشرتی منافقت ، سماجی نا انصافی اور خواتین کی مظلومیت بری لگے گی۔

زنانہ حمایت میں مردانہ کالم

(کتاب "سوچنا منع ہے” سے) 

Comments are closed.