راولاکوٹ! ممکنہ تصادم یا لانگ مارچ؟

ثوبان افتخار راجہ

راولاکوٹ میں شہریوں کو 11 بجے دریک دھرنے میں پہنچنے کی کال دی گئی تھی تاہم مقامی افراد کے مطابق 11 بجنے سے پہلے ہی ایک بہت بڑی تعداد میں عوام دھرنہ گاہ میں جمع ہو گئے ہیں۔ خواتین اور بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد اپنے پیاروں کو الوداع کہنے آئی ہے جبکہ کچھ مظاہرین نے سروں پر کفن باندھ رکھے ہیں۔

اُدھر وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے ایکس پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ہم امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ایک اور قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں، امید ہے اس کے جواب میں سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا جائے گا‘، تاہم وزیر اعظم کے ایک قدم آگے بڑھنے کے متعلق کوئی باضابطہ شواہد تاحال سامنے نہیں آ سکے ہیں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو مولانا فضل الرحمان نے بھی مظاہرین سے ’چند مزید دن کی مہلت‘ دینے کی اپیل کی تھی۔ اس آفر کے کچھ دیر بعد مولانا کے ایک دوسرے بیان کے متعلق ایف آئی آر بھی سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پیر اور منگل کی رات کو حسین کوٹ کے مقام پر مظاہرین سے معمولات تہہ کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے ایک مذاکرات کار متحرک ہیں تاہم اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ کیا وہ مذاکرات کار پھر سے غیر مشروط دھرنے ختم کر کے گھر جانے والی شرط دہرانے آیے ہیں یا اُن کے پاس پیشکش کرنے کو کچھ نیا ہے۔

اس سے قبل یہ دیکھا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے ساتھ ساتھ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کر دیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک اہلکاروں سمیت دو درجن سے زائد شہریوں کی قیمتی جانیں جا چکی ہیں جبکہ کئی زخمی ہیں۔

ایکشن کمیٹی کےرہنماوں سمیت 150 افراد کے نام شیڈول 4 میں شامل
ایکشن کمیٹی کےرہنماوں سمیت 150 افراد کے نام شیڈول 4 میں شامل

ان کارروائیوں کے نتیجے میں سرکار اور عوام کے درمیان اعتماد کو اس قدر ٹھیس پہنچ چکی ہے کہ مظاہرین ریاست کی چھوٹی سے چھوٹی پیشکش پر بھی کسی نامور اور طاقتور شخصیت کی گارنٹی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔

منگل کو بلوچ بیٹھک اور مُتیال میرے کی گئی کارروائیوں میں بی بی سی کے مطابق دو اہلکاروں سمیت آٹھ شہریوں نے جانیں کھوئی اور کئی زخمی ہوئے۔ مظاہرین کے خلاف کیا جانے والا اس نوعیت کا کریک ڈاؤن جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے اور عوام منتشر ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ تعداد میں باہر نکل آتے ہیں۔

اب تک بظاہر کریک ڈاؤن اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی موثر فارمولہ ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ بدھ کو راولاکوٹ میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ مظاہرین کی تعداد اس قدر زیادہ بتائی جاتی ہے کہ قیادت کوئی غیر معروف فیصلہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

بظاہر عوامی پریشر کی وجہ سے مارچ ہونے کا قوی امکان بتایا جاتا ہے تاہم ریاست کی جانب سے مارچ کو روکنے کے لیے پوری تیاری کر دی گئی ہے۔ فورسز ہائی الرٹ ہیں اور راولاکوٹ کے شہریوں نے ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق راولاکوٹ کو ارجے سے ملانے والی شاہراہ پر بنکرز قائم کر دیے گئے ہیں جبکہ راستے میں جگہ جگہ فورسز تعینات ہیں۔

ممکنہ تصادم سے بچنے کی پوری ذمہ داری وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے کندھوں پر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ کسی سنجیدہ مذاکراتی عمل کی شروعات میں کوئی کردار ادا کر کہ اس تصادم کو ٹالتے ہیں یا ٹویٹس اور بیانات کا سہارا لے کر پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

راولاکوٹ! ممکنہ تصادم یا لانگ مارچ؟

Comments are closed.