جیل کوٹھڑی میں 100کتابیں،قرآن پاک اور2 سیب،کوئی خواہش نہیں، عمران خان
فوٹو: فائل
راولپنڈی : جیل کوٹھڑی میں 100کتابیں،قرآن پاک اور2 سیب،کوئی خواہش نہیں، عمران خان کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی پرسپریم کورٹ کا عمران خان کی آنکھ کامعائنہ کروانے کاحکم،بیٹوں سےبات کروائیں، عدالت میں عمران خان سے ملاقات کے بعد پیش کی گئی رپورٹ میں شامل کئی تفصیلات سامنے آگئیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان جو کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل ہیں کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے چار دن کے اندر سابق وزیر اعظم کا طبی معائنہ کروانے کروانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی جانب سے عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی سپیشلسٹ کی ٹیم جلد ہی اڈیالہ جیل کا دورہ کرے گی اور سابق وزیر اعظم کی آنکھ کا معائنہ کیا جائے گا۔ اٹارنی جنرل نےعدالت کو یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ عمران خان سے فون پر ان کےبچوں کی بات کروائی جائے گی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے فرینڈ آف کورٹ مقرر ہونے والے سلمان صفدر کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ وہ دوپہر دو بجے اڈیالہ جیل پہنچے اور دو بج کر 35 منٹ پر ایک کمرے میں سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈٹ جیل کی موجودگی میں ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی کہا کہ عدالت کے حکم پر وہ ان حالات کا جائزہ لیں گے جن میں عمران خان کو رکھا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کی کہ گذشتہ تین ماہ سے انھیں نظر میں کمی کی شکایت ہے ’حالانکہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی۔‘
عمران خان اپنی بینائی کم ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں،رپورٹ
عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بتایا کہ انھوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ سے شکایت کی کہ انھیں دھندلا نظر آتا ہے لیکن جیل حکام نے کوئی بھی کارروائی نہ کی۔ ’وقت گزرنے کے ساتھ انھیں دائیں آنکھ سے نظر آنا بالکل ہی بند ہو گیا۔ اس کے بعد پمز سے ایک ڈاکٹر کو ان کے معائنے کے لیے بلایا گیا۔‘
سپریم کورٹ میں جمع کی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ علاج اور انجیکشن کے باوجود ان کی دائیں آنکھ صرف 15 فیصد ہی کام کرتی ہے،رپورٹ میں وکیل نے لکھا ہے کہ عمران خان اپنی بینائی کم ہونے اور بر وقت طبی امداد نہ ملنے پر واضح طور پر پریشان تھے۔ ’ملاقات کی دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہتا رہا اور وہ ٹشو سے اسے صاف کرتے رہے۔‘
عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں درج ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے سلمان صفدر کو بتایا کہ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف عمران خان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور جیل میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر دن میں تین بار عمران خان کا بلڈ پریشر اور آکسیجن لیول چیک کرتے ہیں۔
وکیل کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ان کی عمر کے لحاظ سے باقاعدگی سے خون کے ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ’انھوں نے کہا کہ پہلے ذاتی ڈاکٹروں ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو ان تک رسائی دی جاتی تھی لیکن جب سے انھیں نظر کم آنے کی شکایت پیدا ہوئی تب سے ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو رسائی نہیں دی گئی۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’تین ماہ تک تو انھیں صرف آنکھوں میں ڈالنے کے لیے قطرے دیے جاتے رہے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور ان کی دائیں آنکھ کی نظر بہت زیادہ کم ہو گئی۔‘عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’73 سال عمر ہونے کی وجہ سے انھیں یہ ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے کہ ان کے دانتوں کا معائنہ کرایا جائے لیکن بار بار درخواست کے باوجود دو سال کے دوران کسی بھی دانتوں کے ڈاکٹر نے ان کا معائنہ نہیں کیا۔‘
جیل میں عمران خان کے شب روز کااحوال
رپورٹ میں عمران خان کی مصروفیات کابھی ذکرہے، سابق وزیراعظم نے بتایا کہ صبح نو بج کر 45 منٹ پر ناشتہ کرتے ہیں۔ پھر تقریباً ساڑھے 11 بجے تک قرآن پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ورزش کے لیے دستیاب سامان پر ورزش کرتے ہیں۔ اس سامان میں ایک ورزش کرنے والی سائیکل ہے، نو کلو گرام وزن والے دو ڈمبل اور ایک بار۔
دوپہر ایک بج کر 15 منٹ پر غسل کرنے کے بعد عمران خان کو احاطے میں چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ بیٹھے رہیں یا چلیں پھریں۔
دوپہر کا کھانا عمران خان دوپہر ساڑھے تین بجے سے لے کر چار بجے تک کھاتے ہیں۔ شام کے پانچ بجے انھیں ایک بار پھر چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے۔شام ساڑھے پانچ سے اگلی صبح 10 بجے تک انھیں جیل کی کوٹھڑی میں بند رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ انھیں صبح ناشے میں وہ کافی کا ایک کپ، دلیہ اور چند کھجوریں لیتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے میں کیا کھانا ہے، اس کی ہفتہ وار ترتیب بھی عمران خان خود بناتے ہیں اور اخراجات ان کا خاندان ادا کرتا ہے۔ اس میں دو دن چکن، دو دن گوشت، دو دن دال اور دو دن چاٹ یا اس نوع کا ہلکا پھلکا کھانا ہوتا ہے۔
عدالت میں جمع کی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ انھیں پینے کے لیے نیسلے کا بوتل والا پانی دیا جاتا ہے۔ رات کے کھانے میں وہ صرف پھل، دودھ اور کھجوریں لیتے ہیں۔
عمران کی جیل کوٹھری میں ایک کرسی،میز اورہینگرہے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی جیل کی ان کی کوٹھڑی میں ایک کرسی، میز، بیڈ اور ہینگر ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دن اور رات کے وقت روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام ہے۔ یہ بھی بتایا کہ جیل کی کوٹھڑی میں کوئی برتن یا چمچ کانٹے وغیرہ نہیں رکھے جاتے۔
عمران خان نے بتایا کہ کپڑے دھونے، صفائی کرنے، بستر کی چادریں بدلنے اور غسل خانہ صاف کرنے میں مدد کے لیے انھیں ایک مشقتی دیا گیا ہے،سردیوں کے دوران انھیں درمیانے سائز کا ہیٹر فراہم کیا جاتا ہے اور گرم پانی ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر سے کہا کہ گرمیوں کے موسم میں حالات زندگی خاص طور پر مشکل ہو جاتے ہیں کیوں کہ ’ایک تو شدید گرمی اور حبس ہوتا ہے، دوسرا، مکھیاں اور مچھر کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سلمان صفدر کے پوچھنے پر عمران خان نے بتایا کہ انھیں فریج فراہم نہیں کیا گیا ہے بلکہ چیزیں ٹھنڈی رکھنے والا ایک ڈبہ دیا گیا ہے لیکن شدید موسم میں اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔ عمران خان نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا کہ گرمیوں کے مہینوں میں دو یا تین بار وہ فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے۔
عمران خان کی جیل میں 10 کیمروں سے نگرانی کی جاتی ہے
عدالت کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ جو احاطہ انھیں دیا گیا ہے اس میں نگرانی کرنے والے 10 کیمرے ہیں، ایک کیمرے کی پہنچ وہاں تک ہے جہاں وہ شاور لیتے ہیں۔ لیکن ان کی کوٹھڑی کے اندر کوئی کیمرہ نہیں لگایا گیا۔
عمران خان نے یہ شکایت کی کہ انھیں اپنے وکیل اور قانونی ٹیم سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے کیسز کی اپ ڈیٹ نہیں لے پا رہے اور اپنی ٹیم کو ہدایات نہیں دے پا رہے۔بہنوں اور اہل خانہ کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ جب کہ نئے سپرنٹنڈنٹ جیل کی تعیناتی کے بعد انھیں ہر منگل کو 30 منٹ کے لیے اپنی بیگم بشریٰ بی بی سے ملنے دیا جاتا ہے۔
عمران خان نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سنہ 2025 میں صرف دو بار ان کی برطانیہ میں موجود اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ملاقات کرائی گئی۔عمران خان نے سلمان صفدر کو بتایا کہ ’انھیں زیادہ کسی چیز کی خواہش نہیں، وہ صرف ان چیزوں کی فراہمی کی توقع رکھتے ہیں جو ان کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔‘
رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس بات چیت کے بعد سلمان صفدر سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے ہمراہ وہ حالات دیکھنے گئے جن میں عمران خان کو رکھا جا رہا ہے۔ جبکہ عمران خان اپنی اہلیہ سے ملاقات کے لیے چلے گئے۔
رپورٹ کے مطابق جس احاطے میں عمران خان کو رکھا گیا ہے اس کے گرد دیواریں 12 فٹ کی ہیں اور ان پر خاردار تاریں لگائی گئی ہیں۔ پوچھنے پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ یہاں پانچ وارڈر اور ایک نائب سپرنٹنڈٹ ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے موجود رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احاطے میں ایک 12 ضرب 30 فٹ کا سبز قطعہ بھی ہے۔ بتایا گیا کہ یہاں دن کے وقت عمران خان ورزش کرتے ہیں، چہل قدمی کرتے ہیں اور دھوپ سینکتے ہیں۔بعد میں سلمان کو کچن لے جایا گیا۔ کھانا پکانے کا سامان اور مصالحہ جات وہاں موجود تھے۔ سلمان صفدر نے لکھا ہے کہ وہاں صفائی کچھ زیادہ بہتر ہو سکتی تھی۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں کہ کوٹھڑی کی دیوار پر 32 انچ کا ٹی وی نصب تھا۔ جب اسے چلانے کی درخواست کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ کام نہیں کر رہا تھا۔ کپڑے لٹکانے کے لیے کوئی الماری نہیں تھی اس لیے عمران خان کے کپڑے بکھرے پڑے تھے۔
جیل کوٹھڑی میں100 کتابیں،2 سیب اور شیونگ کٹ پڑی تھی
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے جیل کی کوٹھڑی میں جو بستر تھا اس پر ایک گدا، چار تکیے اور دو کمبل پڑے تھے۔ بستر کے نیچے جوتوں کے چار جوڑے رکھے تھے۔ فرش پر ایک قالین، جائے نماز، تسبیح اور دو تولیے بھی کمرے میں موجود تھے۔
رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان کی جیل کی کوٹھڑی میں 100 کتابیں، دو سیب، دو ڈمبیل، ٹشو پیپر، ائیرفریشنر، شیونگ جیل اور شیونگ کٹ پڑی تھی۔ غسل خانے کے واش بیسن میں گرم اور ٹھنڈے پانی کا انتظام تھا۔ ایک آئینہ بھی غسل خانے میں رکھا گیا تھا۔
سلمان صفدر لکھتے ہیں ٹوائلٹ جیل کے کمرے کے ساتھ ہی ہے لیکن اس میں ہوا باہر پھینکنے کا کوئی نظام نصب نہیں جبکہ صفائی بھی کچھ بہتر ہو سکتی تھی۔رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنے تحفظ کے انتظامات، جیل کے اندر زندگی کے حالات اور کھانے کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سلمان صفدر نے سفارش کی کہ عمران خان کی آنکھ کی بیماری پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور ماہرین کی ایک ٹیم سے معائنہ کرایا جائے۔’عمران خان کے ذاتی معالجین کو بھی ان تک رسائی دی جائے، عمران خان جو کتابیں چاہیں ان کی فراہمی یقینی بنائی جائے، عمران خان کو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات اور بیٹوں سے بات کی اجازت دی جائے۔
قانونی معاملات پر مشاورت کےلئے وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے، عمران خان کی کوٹھڑی میں مکھیوں اور مچھروں سے بچاؤ کے انتطامات کیے جائیں اور کھانا رکھنے کے لیے فریج فراہم کیا جائے۔‘عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروائے۔
Comments are closed.