جنگ کب ختم ہوگی؟ اب یہ فیصلہ ہم کریں گے، ایرانی پاسداران انقلاب
فوٹو : فائل
تہران : جنگ کب ختم ہوگی؟ اب یہ فیصلہ ہم کریں گے، ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل، ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا تعین کرنا اب کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کی باتیں بےمعنی ہیں، خطے میں سلامتی یا تو سب کے لیے ہوگی یا کسی کے لیے نہیں ہوگی۔
امریکی سفیروں کو نکالنے والے ممالک آبنائے ہرمز کو استعمال کر سکتے ہیں
ایرانی پاسداران انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ جو ملک اسرائیلی و امریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کرسکتا ہے، ان ممالک کو آج سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔
اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اُن کے خیال میں ایران کے خلاف جنگ بڑی حد تک مکمل ہو گئی ہے، ایران کے پاس میزائل اب صرف اِکا دُکا رہ گئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اہم بیان میں کہا ہے کہ جو ملک اسرائیلی و امریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کرسکتا ہے۔
جاری کردہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ان ممالک کو کل سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ آئل ٹینکرز کے اسٹاف کو جان کا خطرہ مول لے کر آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہیے۔
تین دن قبل بھی ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے کہا تھا کہ ایران کسی بھی طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران جلد ایسے نئے اسٹریٹیجک ہتھیار متعارف کرائے گا جو اب تک میدانِ جنگ میں استعمال نہیں کیے گئے۔
بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی کا کہنا ہے کہ ایران جارحیت کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آئل ٹینکرز کو جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہیے، اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہيں۔
ترکیہ پر میزائل حملے کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں، ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ترک ہم منصب اردوان سے گفتگو کی۔ اس موقع پر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ترکیے پر ایرانی میزائل حملے کے الزام کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کیلئے ایران اور ترکیے کی مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کو تیار ہیں۔ترک صدر نے کہا کہ نیٹو ایئر ڈیفنس نے ترکیے کی فضائی حدود میں ایک اور میزائل مار گرایا۔
Comments are closed.