جنگ بندی ٹاسک،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پہلا غصہ نیتن یاہو پر اتارا، سفارتی محاذ گرم

فوٹو : اے آئی 

واشنگٹن : جنگ بندی ٹاسک،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پہلا غصہ نیتن یاہو پر اتارا، سفارتی محاذ گرم ہو گیا،امریکہ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کی کوششوں کے لیے نائب صدر J. D. Vance کو مرکزی کردار دینے کا فیصلہ کیا ہے، جسے ان کے سیاسی کیریئر کا نہایت اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ ذمہ داری ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب وہ ریپبلکن پارٹی میں 2028 کے صدارتی امیدوار کے طور پر مضبوط حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ بعض حلقے ایران جنگ کی مخالفت کے باعث ان پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ Axios  کے مطابق واشنگٹن ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے وینس کو کلیدی ذمہ داریاں سونپنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں ان کے خلیجی اتحادیوں سمیت مختلف علاقائی رہنماؤں سے روابط بڑھائے گئے ہیں، جبکہ وہ ایران کے ساتھ بالواسطہ رابطوں میں بھی شامل رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وینس کی Benjamin Netanyahu کے ساتھ متعدد ٹیلیفونک بات چیت ہو چکی ہے، جن میں ایک حالیہ گفتگو خاصی سخت نوعیت کی تھی۔ برطانوی اخبار Daily Mail کے مطابق اس گفتگو میں وینس نے نیتن یاہو کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اسرائیلی قیادت کے اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق وینس نے اسرائیلی دعوؤں کو خوش فہمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کے بعد ایرانی حکومت کے فوری خاتمے اور عوامی بغاوت سے متعلق پیش گوئیاں حقیقت کے برعکس ثابت ہوئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اندازوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔

بعد ازاں ایک اسرائیلی اخبار میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ وینس کی ناراضی مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کے معاملے پر تھی، تاہم امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اصل اختلاف ایران سے متعلق حکمت عملی پر تھا۔

ادھر واشنگٹن میں صدر Donald Trump نے کابینہ اجلاس کے دوران وینس سے ایران سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ لی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اس عمل میں Steve Witkoff اور Jared Kushner کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر غور جاری ہے۔

وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق وینس کا ماضی میں جنگوں کی مخالفت کا مؤقف اور انتظامیہ میں ان کی سینیارٹی انہیں ایرانی قیادت کے لیے نسبتاً قابل قبول مذاکرات کار بناتی ہے۔

اسی بنیاد پر انہیں مرکزی کردار دینے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے، اور بعض امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اگر ایران ان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو کسی بڑے معاہدے کے امکانات محدود ہو جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکیہ بھی اس تنازع میں ثالثی کے لیے سرگرم ہیں اور فریقین کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اعلیٰ قیادت کی منظوری کے بعد ہی کسی باضابطہ پیش رفت کا حصہ بنیں گے، جبکہ ممکنہ ملاقات کی صورت میں وینس کا سامنا ایرانی قیادت کے اہم نمائندوں سے ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر وینس اس حساس معاملے میں کامیاب ہو کر ایران کو مذاکرات کی میز پر لے آتے ہیں اور کوئی پائیدار معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ کامیابی ان کے سیاسی مستقبل، خصوصاً 2028 کے صدارتی انتخاب میں، فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

تاہم ناکامی کی صورت میں یہی معاملہ ان کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بھی بن سکتا ہے اور اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد کی جا سکتی ہے۔۔

Comments are closed.