تہران پر شدید بمباری،ایران میں جو بھی نئی قیادت آئی اسے مار دیں گے،ٹرمپ

تہران پر شدید بمباری،ایران میں جو بھی نئی قیادت آئی اسے مار دیں گے،ٹرمپ

فوٹو : سوشل میڈیا

واشنگٹن، تہران : تہران پر شدید بمباری،ایران میں جو بھی نئی قیادت آئی اسے مار دیں گے، امریکی صدر ٹرمپ کا نیا موقف سامنے آیا ہے،ایران کے دارالحکومت Tehran پر شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ حملے ایران پر جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کی سب سے شدید بمباری قرار دیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کے ساتھ واقع شہر Karaj میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد آسمان روشنی سے بھر گیا جبکہ کئی علاقوں میں فضائی دفاعی نظام کو بھی متحرک ہوتے دیکھا گیا۔

علاقائی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں نے ایران میں سکیورٹی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

روسی صدرپیوٹن کا ٹرمپ سے ایک اور رابطہ، جنگ بندی پرزور

دوسری جانب روس کے صدر Vladimir Putin نے امریکی صدر Donald Trump کو ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ایران سے جاری جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

روسی ایوان صدر Kremlin کے خارجہ پالیسی کے معاون Yuri Ushakov کے مطابق اس گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے چند تجاویز بھی پیش کیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے Ukraine کے تنازع، Venezuela کی صورتحال اور عالمی تیل مارکیٹ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل صدر پیوٹن یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔

دریں اثنا روسی صدر نے حال ہی میں ایران کے نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei کو مبارکباد کا پیغام بھی بھیجا ہے۔ اپنے پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے اور انہیں امید ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو وقار کے ساتھ آگے بڑھائیں گے اور مشکل حالات میں ایرانی قوم کو متحد رکھیں گے۔

حزب اللہ کے اسرائیل پر حملوں کا دعویٰ

دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم Hezbollah نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی شہر Safed میں موجود ایک ڈرون کنٹرول بیس کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا ہے۔

تنظیم کے مطابق اس کارروائی میں اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اسرائیلی فوج کے یفتاح بیرکس پر بھی راکٹ فائر کیے گئے۔ حزب اللہ کے اس دعوے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر خلیجی ریاست Bahrain میں ایک ہوٹل کی عمارت سے ڈرون ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ لگ گئی۔ مقامی حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کی کوششیں کی گئیں جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات ایران کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ضروری ہوا ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت میزائل حملے جاری رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک سخت سفارتی مؤقف قرار دیا جا رہا ہے۔

 ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی قیادت کے بارے میں سخت موقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن ارکان کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں جو بھی نئی قیادت سامنے آئی اسے مار دیا گیا اور آئندہ آنے والی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز کر رہے ہیں اور ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے تقریباً پانچ ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ ایرانی بحریہ کے 51 جنگی جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی بحری جہاز اب سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں اور ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت کو بھی بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے یہ فوجی کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا جو دنیا کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک بڑے فوجی آپریشن Epic Fury کو دیکھ رہی ہے جو ان کے بقول آپریشن Midnight Hammer سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ اپنی پہلی صدارتی مدت میں انہوں نے امریکی فوج کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جبکہ دوسری مدت میں اسی طاقت کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اب پوری دنیا کو اس حقیقت کا اندازہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور بااثر ہو چکا ہے اور وہ تیزی سے امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے سابق امریکی صدر Joe Biden کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان سے امریکی انخلا کو امریکی تاریخ کا ایک شرمناک باب قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے نے امریکا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا، تاہم ان کے بقول اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ امریکا کا احترام کر رہی ہے۔

تہران پر شدید بمباری،ایران میں جو بھی نئی قیادت آئی اسے مار دیں گے،ٹرمپ

Comments are closed.