بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت کا بڑا فیصلہ: پُرباچل پلاٹ کیس میں شیخ حسینہ کو قید کی سزا
فوٹو : سوشل میڈیا
ڈھاکا : بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے پُرباچل نیو ٹاؤن منصوبے میں پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے مقدمے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے خاندان کے افراد کو سزائیں سنا دی ہیں۔ عدالت نے کرپشن سے متعلق دو الگ الگ مقدمات میں شیخ حسینہ کو مجموعی طور پر 10 سال قید اور بھاری جرمانوں کی سزا سنائی گئی ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ڈھاکا کی خصوصی عدالت نے پیر کے روز پُرباچل نیو ٹاؤن منصوبے میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں سے متعلق دو مقدمات کا فیصلہ سنایا۔ ان مقدمات میں شیخ حسینہ، ان کے اہلِ خانہ اور دیگر 11 ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق دو الگ الگ مقدمات زیرِ سماعت تھے۔ پہلے مقدمے میں عدالت نے شیخ حسینہ کو 5 سال قید، ان کی بھانجی اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو 2 سال جبکہ ان کی بہن عظمیٰ صدیق کو 7 سال قید کی سزا سنائی۔
دوسرے مقدمے میں عدالت نے شیخ حسینہ کو مزید 5 سال قید، ٹیولپ صدیق کو 2 سال اور ان کے بھائی رضوان مجیب صدیق کو 7 سال قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے بعد شیخ حسینہ کی دونوں مقدمات میں مجموعی سزا 10 سال جبکہ ٹیولپ صدیق کی مجموعی سزا 4 سال ہوگئی ہے۔
انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کے مطابق شیخ حسینہ نے اپنے دورِ اقتدار میں اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دارالحکومت ڈھاکا کے قریب پُرباچل کے علاقے میں اپنے خاندان کے لیے 10 کٹھا کے قیمتی سرکاری پلاٹ غیرقانونی طور پر حاصل کیے۔ اے سی سی کا مؤقف ہے کہ یہ پلاٹ حکومتی قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کے ذریعے الاٹ کیے گئے۔
چارج شیٹ کے مطابق برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق نے اپنی خالہ شیخ حسینہ کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے بھائی اور بہن کے لیے سرکاری پلاٹس کے حصول میں سہولت فراہم کی۔ الزام ہے کہ شیخ حسینہ نے سینئر سرکاری افسران کے ساتھ مل کر ڈپلومیٹک زون کے سیکٹر 27 میں پُرباچل نیو ٹاؤن پروجیکٹ کے چھ قیمتی پلاٹس حاصل کیے، جن میں سے ہر پلاٹ کا رقبہ 10 کٹھا یعنی تقریباً 7 ہزار 200 مربع فٹ تھا۔
اے سی سی کے مطابق دسمبر 2024 کے اختتام پر شیخ حسینہ اور ان کے خاندان کے خلاف پُرباچل پلاٹ الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد گزشتہ سال جنوری میں بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 6 مقدمات درج کیے گئے، جن میں شیخ حسینہ کو مرکزی ملزم جبکہ ٹیولپ صدیق سمیت دیگر افراد کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل شیخ حسینہ کو 2024 کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں انسانیت سوز جرائم اور طالب علموں کے قتلِ عام کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔
شیخ حسینہ واجد ڈھاکا میں عوامی مظاہروں اور شدید دباؤ کے بعد استعفیٰ دے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہو گئی تھیں اور اس وقت بھارت میں قیام پذیر ہیں۔ عدالتی فیصلوں کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا باضابطہ مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔
بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت کا بڑا فیصلہ: پُرباچل پلاٹ کیس میں شیخ حسینہ کو قید کی سزا
Comments are closed.