بنگلادیش انتخابات، خالدہ ضیاء کی بی این پی کو 167 نشستوں پر برتری حاصل
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد : بنگلادیش انتخابات، خالدہ ضیاء کی بی این پی کو 167 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ جماعت اسلامی کی زیر قیادت اتحاد نے 62 نشستوں پر کامیابی کے قریب ہے، 5 نشستوں پر آزاد اور دیگر جماعتوں کے امیدوار کامیاب قرار پائے۔
بنگلہ دیش کے انتخابات میں تاحال صورتحال کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی فتح کی جانب گامزن ہے جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے، 73 فیصد ووٹرز نے ملک میں ہونے والے ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دیا اور 27 فیصد نے اس کی مخالفت کی.
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق غیر حتمی نتائج کے مطابق 167 نشستوں پر بی این پی اتحاد کو برتری حاصل ہے۔جماعت اسلامی جماعت اسلامی کے امیر نے انتخابی نتائج کی تاخیر پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری طرف بی این پی کا کہنا ہے کہ وہ اتحادیوں کیساتھ مل کر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں، معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے انتخابات کو ڈرامہ قرار دیا ہے، اُن کی جماعت پابندی کے باعث انتخابی عمل کا حصہ نہیں ہے۔
میڈیا رپورٹ اور پارٹی ذرائع کے مطابق بی این پی کے سربراہ طارق الرحمان ڈھاکا اور بوگرا کی دونوں نشستوں پر کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان بھی ڈھاکا 15 سے اپنی نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
طلبہ تنظیم کی نمائندہ سیاسی جماعت این سی پی کے سربراہ ناہید اسلام کو بھی ڈھاکا II سے برتری حاصل ہے، جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ وہ منصفانہ انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کریں گے۔
بنگلہ دیش کی 31 سالہ تاریخ میں پہلی بار الیکشن میں تشدد سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تاہم بعض پولنگ اسٹیشنز پر تلخ کلامی ہوئی ہے.
واضح رہے کہ بنگلادیش میں 300 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے 151 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت حکومت بنائے گی۔ ایک نشست پر الیکشن ملتوی ہوئے ہیں.
انتخابات مجموعی طور پر پُرامن اور شفاف رہے جس میں اب تک کسی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے ہیں،اب تک کے غیر مصدقہ، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج میں سابق وزیراعظم مرحومہ خالدہ ضیا کی جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی سب سے آگے ہے۔
والدہ کے حال ہی میں انتقال کے بعد بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی کی قیادت خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کر رہے ہیں۔
Comments are closed.