بند کمروں میں پھر فیصلہ کر لیا، ایران جنگ پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، سہیل آفریدی
فوٹو : اسکرین شاٹ
اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے قومی و علاقائی صورتحال پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔بند کمروں میں پھر فیصلہ کر لیا، ایران جنگ پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، سہیل آفریدی نے کہا قومی معاملات ایسے نہیں چلائے جاتے.
انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کیا گیا اہم اجلاس بغیر کسی واضح وجہ کے منسوخ کر دیا گیا، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید اختلافات کے باوجود پاکستان کے مفاد میں اجلاس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین سال سے عمران خان، ان کے خاندان، پارٹی قیادت اور کارکنوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ عوامی مینڈیٹ کے باوجود ان کی جماعت کو اہم قومی فیصلوں میں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی پر قوم کو اعتماد میں نہیں لیا اور اہم فیصلے بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ قومی فیصلے کسی ایک خاندان یا ادارے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کے اثرات پورے ملک پر پڑتے ہیں، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
انہوں نے وفاق پر الزام عائد کیا کہ وہ خیبرپختونخوا کو اس کا مالی حصہ دینے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ آٹھ سال میں 964 ارب روپے صوبے کے حصے سے دیگر صوبوں کو منتقل کیے گئے جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کا حصہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا، جو کہ غیر آئینی اقدام ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اے آئی پی پروگرام کے تحت ہر سال 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر سات سال میں صرف 168 ارب روپے فراہم کیے گئے اور رواں سال قبائلی اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کفایت شعاری اقدامات کے تحت اخراجات میں کمی کر رہی ہے اور اپنے وسائل سے قبائلی اضلاع کو فنڈز فراہم کر رہی ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت زوال کا شکار ہے، صنعتی ترقی رک چکی ہے اور نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکسٹائل صنعت بند ہو رہی ہے، تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ گزشتہ تین سال میں پٹرول کی قیمتوں میں 171 روپے اضافہ ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے سات ماہ میں پانچ ارب ڈالر قرض لیا مگر عوامی فلاح پر اس کے اثرات نظر نہیں آ رہے۔ پنجاب میں مہنگا لگژری طیارہ خریدنے اور بھاری تنخواہوں پر پائلٹس رکھنے کو انہوں نے غیر سنجیدہ طرز حکمرانی قرار دیا۔
آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت عوام اور پارلیمنٹ کا سامنا کرے اور قومی معاملات پر تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے۔
Comments are closed.