ایران کے ساتھ مزاکرات کی صورتحال ابھی غیر واضح، غیرمستحکم ہے، ترجمن وائٹ ہاوس

ایران کے ساتھ مزاکرات کی صورتحال ابھی غیر واضح، غیرمستحکم ہے، ترجمن وائٹ ہاوس

فوٹو : سوشل میڈیا

واشنگٹن ،اسلام آباد: ایران کے ساتھ مزاکرات کی قیاس آرائیوں کے باوجود ایران کے ساتھ مزاکرات کی صورتحال ابھی غیر واضح، غیرمستحکم ہے، ترجمن وائٹ ہاوس نے یہ بات آج ایک سوال کے جواب میں کہی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح اور غیر مستحکم ہے، جبکہ مختلف فریقین کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نہایت حساس سفارتی معاملہ ہے اور اس پر سوشل میڈیا یا غیر مصدقہ ذرائع کے ذریعے کوئی مؤقف پیش نہیں کیا جائے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے ABC News سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک وائٹ ہاؤس خود اس کا باضابطہ اعلان نہ کرے۔

پاکستان جنگ خاتمہ کےلئےمزاکرات کی میزبانی کےلئے تیارہے،وزیراعظم شہباز شریف

ادھر اے بی سی نیوز نے امریکی وزارت خارجہ سے اس امکان پر تبصرہ طلب کیا تھا کہ آیا امریکی خصوصی صدارتی ایلچی اسٹیفن وٹکوف، سابق صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کا دورہ کر کے اسلام آباد میں ایرانی حکام سے مذاکرات کریں گے۔ تاہم اس حوالے سے درخواست وائٹ ہاؤس کو ارسال کر دی گئی ہے اور تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ایک پاکستانی عہدے دار نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ممکنہ مذاکرات کے لیے کئی تجاویز زیر غور ہیں، جن میں اسلام آباد میں براہ راست ملاقات بھی شامل ہے۔ عہدے دار کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان رابطے آئندہ چند دنوں میں متوقع ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 مارچ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان گزشتہ دو دنوں میں "انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات” ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشاورت پورے ہفتے جاری رہے گی اور انہوں نے امریکی وزارت دفاع Pentagon کو ہدایت کی ہے کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔

صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان اتفاق کے کئی اہم نکات موجود ہیں۔

تاہم ایرانی مؤقف اس کے برعکس سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ادارے IRNA کو بتایا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے براہ راست مذاکرات نہیں کیے، البتہ ثالث ممالک کے ذریعے اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔

اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کی سختی سے تردید کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کے حوالے سے "دوست ممالک” کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم براہ راست رابطہ نہیں ہوا۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران کے مختلف شہروں، خصوصاً دارالحکومت تہران کو 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تقریباً روزانہ بمباری کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں اعلیٰ حکام سمیت متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔

ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ خلیج میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

Comments are closed.