ایران کیخلاف عسکری کارروائیاں ختم کرنے پرغور،ہرمزہم استعمال نہیں کرتے، ٹرمپ
فوٹو : سوشل میڈیا
واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ پر تذبذب کاشکار،دھمکی دیتے ہیں کبھی جنگ سے نکلنے کا بیان دے دیتے ہیں،تازہ بیان میں امریکی صدرنے کہا ایران کیخلاف عسکری کارروائیاں ختم کرنے پرغور،ہرمزہم استعمال نہیں کرتے، ٹرمپ کا موقف ،ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہیں کیونکہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی دہشت گرد حکومت کے حوالے سے جاری بڑی عسکری کارروائیوں کے خاتمے پر غور کر رہے ہیں۔‘
اس حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال کسی بھی جنگ بندی کے حق میں نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جب ایک فریق کو مکمل طور پر شکست دی جا رہی ہو تو ایسے میں جنگ بندی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کو انتہائی شدت کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے اور یہ کارروائیاں اپنے مقاصد کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف جاری بڑی عسکری کارروائیوں کے خاتمے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم یہ عمل اہداف کے حصول سے مشروط ہوگا۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں "خوفناک لوگ” قرار دیا۔
ٹرمپ مدد مانگ مانگ کرتھک گئے،آبنائے ہرمز سے فرارکا عندیہ
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی گزرگاہ کی سیکیورٹی ان ممالک کی ذمہ داری ہونی چاہیے جو اسے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ خود اس راستے کو استعمال نہیں کرتا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو واشنگٹن دیگر ممالک کی معاونت کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے تحفظ کیلئے بڑے پیمانے پر عسکری موجودگی کی ضرورت نہیں رہے گی اور یہ ایک نسبتاً آسان فوجی آپریشن ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر کی نیٹو اور اتحادیوں پر تنقید
امریکی صدر نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغربی اتحاد نے اب تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تجارت کے تحفظ کیلئے مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی کارروائی کیلئے بحری وسائل درکار ہوتے ہیں اور نیٹو اس میں مدد فراہم کر سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ نے جاپان اور چین پر بھی زور دیا کہ وہ اس اہم بحری راستے کی بحالی اور تحفظ میں کردار ادا کریں کیونکہ وہ اس سے نمایاں فائدہ اٹھاتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے کردار پر بھی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ برطانوی حکومت نے اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کے حوالے سے فیصلہ بہت تاخیر سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو فوری اور مؤثر ردعمل دینا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں، تاہم حالیہ صورتحال میں برطانیہ کا رویہ غیر متوقع رہا۔
ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعاون کے باعث خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ بالآخر مشترکہ مقاصد کے حصول کے ساتھ ہوگا۔
Comments are closed.