ٹرمپ کا ایک اور دعویٰ جھوٹا ثابت ،جنگ بندی چاہتے ہیں نہ درخواست کی، ایران

فوٹو : فائل

تہران :ٹرمپ کا ایک اور دعویٰ جھوٹا ثابت ،جنگ بندی چاہتے ہیں نہ درخواست کی، ایران نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ مسترد کر دیا۔

امریکی صدر کے دعوے کے جواب میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کے لیے کسی کو درخواست نہیں دی، ایران سے منسوب5 نکاتی مبینہ منصوبہ قیاس آرائی ہے، نقصانات کے ازالے تک جنگ اورجارح کو سزا دیتے رہیں گے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے بھی جنگ بندی کی درخواست سے متعلق امریکی صدر کا بیان غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے،
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مصری اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کی غلط حکمتِ عملی اور اشتعال انگیزی کے باعث اس تنازع میں کھنچتا چلا گیا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ دنیا میں اب کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، وہ سفارت کاری اور مذاکرات کو صرف اپنے مطالبات مسلط کرنے یا طاقت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی عوام اس وقت امریکا کے ساتھ مذاکرات یا سفارت کاری کے لیے تیار نہیں، کیونکہ امریکہ ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے اور طاقت کے استعمال کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل طور پر صحت مند ہیں اور جنگی حالات کے باعث عوامی سطح پر نظر نہیں آ رہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول مضبوط ہے ، امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔

ایران جنگ کے مکمل خاتمہ کیلئے واضح ضمانت ملنے کا خواہاں ہے، ایرانی وزیر خارجہ

 ایران جنگ کے مکمل خاتمہ کیلئے واضح ضمانت ملنے کا خواہاں ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ محض جنگ بندی قابل قبول نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ محدود نوعیت کا رابطہ موجود ہے تاہم کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، جب کہ واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی تجاویز پر ایران نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ براہ راست پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، جو حالیہ کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اس رابطے کے باوجود کسی قسم کے باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ سیکیورٹی سے متعلق بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے امریکا کے 15 نکاتی تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی کوئی شرائط عائد کی ہیں۔ ان کے مطابق ایران جنگ بندی کے بجائے تنازع کا مکمل خاتمہ قبول کرے گا۔

عباس عراقچی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے لیے گارنٹی بھی ضروری ہے، تاکہ دوبارہ ایران پر حملے نہ ہوں اور گزشتہ حملوں سے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی یقینی بنایا جائے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ’’امریکا فرسٹ‘‘ کا نعرہ اس وقت کھوکھلا محسوس ہوتا ہے جب کسی غیر ملکی حکومت کے لیے جنگ چھیڑی جائے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے اور نوجوان فوجیوں کو مرنے کے لیے بھیجا جا رہا ہو۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ یہ جنگ ایک مسلط کردہ فیصلہ ہے جو انتخاب کے تحت شروع کی گئی اور اسے امریکیوں اور ایرانیوں دونوں پر مسلط کیا جا رہا ہے.

Comments are closed.