ایران اپنے جوہری و میزائل پروگرام کی خاطر امریکہ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، امریکی صدر
فوٹو : فائل
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران اپنے جوہری و میزائل پروگرام کی خاطر امریکہ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ معاہدہ کی طرف نہ گئے تو بے وقوف ہوں گے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور ممکنہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس تنازع کے دوران 10 طیارے گرائے گئے تھے اور صورتحال ایٹمی جنگ کی جانب بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی سفارتی اور تجارتی حکمت عملی نے اس ممکنہ تباہ کن تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے امریکا سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو یہ اس کے لیے ایک بڑی غلطی ہوگی۔
ٹرمپ نےپاک بھارت جنگ میں گرنے والے طیارے بڑھا کر10 کردیئے
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر چکی تھی اور حالات انتہائی خطرناک رخ اختیار کر رہے تھے۔ ان کے مطابق، "میری رائے میں وہ واقعی شدید لڑائی لڑ رہے تھے، اور یہ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس کشیدگی کے دوران 10 طیارے مار گرائے گئے تھے، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ واقعہ کب اور کس تناظر میں پیش آیا۔ یاد رہے کہ 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی جھڑپیں ہوئیں تھیں، جن میں دونوں جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوے سامنے آئے تھے۔ اس وقت خطے میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی اور عالمی برادری نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی تھیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے تجارتی ٹیرف اور سفارتی دباؤ کو بطور حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے صورتحال کو ٹھنڈا کیا اور دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کے مطابق، "ٹیرف کے ذریعے جنگ روکی گئی۔”
ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت مؤقف
اپنے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق پابندیوں میں نرمی حاصل کی جا سکے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو وہ دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ (JCPOA) 2015 میں طے پایا تھا، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے 2018 میں اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
پاک بھارت جنگ ،عالمی تناظر اور خطے کی صورتحال
پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کی بڑی فوجی جھڑپ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگیں اور سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں 1999 کی کارگل جنگ اور 2019 کی فضائی کشیدگی نمایاں ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے دوران عالمی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی غلط فہمی یا عسکری اقدام کے نتیجے میں ایٹمی تصادم کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ امریکا، چین اور دیگر عالمی طاقتیں اکثر پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے عالمی سفارتی کردار کس حد تک مؤثر ہے۔ تاہم ان کے دعوے سے متعلق آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
Comments are closed.