ایران امریکہ مزاکرات عمان منتقل، میزائل پروگرام پہ بات نہیں ہوگی، ایران کا دوٹوک مؤقف
فوٹو : فائل
اسلام آباد : ایران امریکہ مزاکرات عمان منتقل، میزائل پروگرام پہ بات نہیں ہوگی، ایران کا دوٹوک مؤقف، مزاکرات بھی ایران کے مطالبے پر امریکا سے عمان منتقل کئے گئے، بات چیت کے باوجود بھی کشیدگی کم ہوئی ہے تاہم جنگ کا خطرہ ابھی ٹلہ نہیں ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کیلئے مجوزہ مذاکرات اب عمان میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات صرف ایرانی ایٹمی پروگرام تک محدود ہوں گے جبکہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور دیگر علاقائی معاملات پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ اس کی سرخ لکیر ہے اوراس معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔ایرانی مؤقف کے مطابق مذاکرات کا مقام عمان منتقل کرنا بھی تہران کی خواہش پر طے پایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت اسی ہفتے متوقع ہے۔
اگرچہ مذاکرات کے آغاز سے فوری جنگ کا خطرہ وقتی طور پر کم ہوا ہے، تاہم خطے میں بے چینی بدستور برقرار ہے اور صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ پہلے امریکا کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات مستحکم ہوں، اس کے بعد ہی پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کو شامل کرنے پر غور کیا جائے۔ اسی وجہ سے تہران نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔
شہباز شریف: پاکستان نے ایران کے معاملے پر برادر ملک کا کردار ادا کیا
ادھر وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک بھائی کی حیثیت سے جو ممکن تھا، وہ کردار ادا کیا ہے۔ بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان نے سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کیں۔
وزیرِ اعظم کے مطابق نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے مختلف مواقع پر ایرانی قیادت سے بالمشافہ ملاقاتیں کیں، ٹیلی فونک رابطے ہوئے اور عالمی فورمز پر بھی بات چیت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، قطر، ترکی، مصر، عمان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر خطے میں پھیلتے خطرات کم کرنے کیلئے کوشاں ہے تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
مارکو روبیو: جوہری پروگرام کے ساتھ میزائل اور علاقائی کردار پر بات ضروری
دوسری جانب امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم کسی بھی بامعنی نتیجے کیلئے صرف جوہری پروگرام پر بات کافی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ایرانی میزائل پروگرام، خطے میں سرگرم گروہوں کی حمایت اور ایران کے اندر مظاہرین کے ساتھ سلوک جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آنا چاہئیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں ایران کے ساتھ کسی بڑے معاہدے کی زیادہ امید نہیں، تاہم امریکا مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی رینج اور علاقائی سرگرمیاں خطے کے امن کیلئے اہم چیلنج ہیں۔
علاقائی ذرائع کے مطابق امریکا نے دباؤ اور مذاکرات کی دوہری پالیسی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اگرچہ فی الحال سفارت کاری کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے اور جنگ ٹل گئی ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ مذاکراتی ڈھانچے کے بعد بنیادی نکات پر کتنی سنجیدگی سے پیش رفت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عمان مذاکرات ایک محدود مگر اہم مرحلہ ہیں، جن کے نتائج آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
Comments are closed.