امیگرنٹ کمیونٹیز کا فیصلہ کن کردار، ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن گئے

فوٹو : سوشل میڈیا 

نیو یارک: امیگرنٹ کمیونٹیز کا فیصلہ کن کردار، ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن گئے، حلف قرآن مجید پر اُٹھایا، امریکی شہر نیویارک میں میئر کے انتخاب نے نہ صرف مقامی سیاست بلکہ امریکہ کے مجموعی سیاسی منظرنامے میں بھی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ 34 سالہ ظہران ممدانی کی کامیابی کو مسلم اور امیگرنٹ کمیونٹی کی منظم سیاسی طاقت، بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور شہر کی بدلتی آبادیاتی صورتحال کی واضح عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔

ظہران ممدانی ایک صدی میں اس شہر کے کم عمر ترین میئر بھی ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نیویارک کے علاقے برونکس میں مسلم اور امیگرنٹ ووٹرز نے انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈالا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں برونکس اور ملحقہ علاقوں میں مسلم آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث نہ صرف سماجی بلکہ سیاسی سطح پر بھی ان کا کردار مضبوط ہوا۔

انتخابی دن مسلم کمیونٹی، بالخصوص نوجوان ووٹرز اور خواتین کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر نظر آئی، جس نے ممدانی کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
برونکس کے قدیم مسلم سینٹر کو بھی اس سیاسی بیداری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دو منزلہ اس عمارت میں روزانہ سینکڑوں افراد نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہی مرکز انتخابی مہم کے دوران کمیونٹی رابطے اور سیاسی آگاہی کا اہم ذریعہ بنا۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک مذہبی مقام نہیں بلکہ ایک سماجی و سیاسی مرکز بھی ہے، جہاں سے کمیونٹی کو منظم کیا گیا۔

ظہران ممدانی نے سٹی ہال میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں نیویارک کے میئر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ انہوں نے اپنے دادا اور دادی کے استعمال کردہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا، جسے شرکاء نے تاریخی لمحہ قرار دیا۔ اس موقع پر معروف امریکی سینیٹر اور رکن کانگریس برنی سینڈرز بھی موجود تھے، جنہوں نے ممدانی کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ کامیابی شمولیتی سیاست اور جمہوری اقدار کی فتح ہے۔

قرآن پر حلف، شمولیتی سیاست کا عہد: ظہران ممدانی کا نیویارک کے میئر کے طور پر آغاز

حلف برداری کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ظہران ممدانی نے کہا کہ “آج سے نیویارک میں ایک نئے عہد کا آغاز ہو گیا ہے۔ اگر آپ نیویارک کے شہری ہیں تو میں بلا تفریق آپ سب کا میئر ہوں۔ظہران ممدانی کے تاریخی الفاظ ” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نسل، مذہب، زبان اور امیگریشن اسٹیٹس سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔

ممدانی کا کہنا تھا کہ نیویارک ایک متنوع شہر ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ رہائش، صحت، تعلیم، روزگار اور عوامی تحفظ جیسے بنیادی مسائل پر ترجیحی بنیادوں پر کام کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ہر مشکل وقت میں نیویارک کے شہریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

حلف برداری کے بعد ممدانی کی میئر شپ کے آغاز کی خوشی میں ایک عوامی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں مختلف قومیتوں، مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مسلم، لاطینی، افریقی اور ایشیائی کمیونٹیز کے نمائندوں نے اسے شمولیتی سیاست کی کامیابی قرار دیا

Comments are closed.