امریکی اڈوں پرایران کے حملوں میں 80کروڑ ڈالر کانقصان ہوا،رپورٹ
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق امریکی اڈوں پرایران کے حملوں میں 80کروڑ ڈالر کانقصان ہوا،رپورٹ کے مطابق یہ نقصان گزشتہ دو ہفتوں میں امریکہ کے زیرِ استعمال فوجی تنصیبات کو اٹھانا پڑاہے۔
اس حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کاحوالہ دیتے ہوئے ایک تجزیے میں بتایا ہے کہ اس نقصان کا بڑا حصہ جنگ کے ابتدائی ہفتے میں ایران کی جانب سے کی جانے والی شدید جوابی کارروائیوں کے دوران ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم ابتدائی تخمینہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ کے ساتھ امریکہ کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
سی ایس آئی ایس کے سینیئر مشیر اور رپورٹ کے شریک مصنف مارک کانسین کے مطابق خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کو کم رپورٹ کیا گیا ہے اور اصل اعداد و شمار مزید معلومات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کے 16 فوجی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، بلوم برگ
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع نے اس معاملے پر براہِ راست تبصرہ کرنے کے بجائے امریکی سینٹرل کمانڈ سے رجوع کرنے کا کہا، تاہم سینٹرل کمانڈ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی کارروائیوں میں اردن، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فضائی دفاعی نظام اور سیٹلائٹ کمیونی کیشن نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا۔
سب سے زیادہ نقصان اردن میں قائم ایک امریکی اڈے پر نصب جدید میزائل دفاعی نظام THAAD کے ریڈار کو نشانہ بنائے جانے سے ہوا۔ سی ایس آئی ایس کے مطابق اے این/ٹی پی وائی-2 ریڈار سسٹم کی مالیت تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے، جو بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور تباہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
امریکی تنصیبات کو 31 کروڑ کا اضافی نقصان بھی پہنچا
اس کے علاوہ امریکی فوجی اڈوں کی عمارتوں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 31 کروڑ ڈالر کا اضافی نقصان بھی پہنچا ہے۔
قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی تصدیق، سیٹلائٹ تصاویر میں تباہی کے واضح ثبوت
سیٹیلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایران نے خطے میں متعدد امریکی اڈوں کو بار بار نشانہ بنایا، جن میں کویت کا علی السالم ایئر بیس، قطر کا العدید ایئر بیس اور سعودی عرب کا شہزادہ سلطان ایئر بیس شامل ہیں۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ روس نے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے ایران کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد سے اب تک اس جنگ میں امریکہ کے 13 فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس ایکٹویسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اس جاری تنازع میں اب تک مجموعی طور پر 1400 شہریوں سمیت تقریباً 3200 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جس سے خطے میں انسانی بحران کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
Comments are closed.