امریکہ کے ساتھ مزاکرات کیلئے ایران نے 6 اسٹریٹیجک شرائط پیش کردیں
فوٹو : فائل
تہران : امریکہ کے ساتھ مزاکرات کیلئے ایران نے 6 اسٹریٹیجک شرائط پیش کردیں، جس میں سرفہرست آئندہ جارحیت نہ ہونے کی گارنٹی شامل ہے، نقصانات کی تلافی اور ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور دیگر شرائط شامل ہیں.
مزاکرات آئندہ ایک دو دن تک متوقع ہیں یہ شرائط میڈیا رپورٹس کے زریعے سامنے آئی ہیں تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ثالثوں کے زریعے امریکا اور اسرائیل کو پیش کی گئی ہیں۔
ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کر چکا ہے ، جنگ روکنے کیلئے اس منصوبے پر مرحلہ وار عمل کیا جارہا ہے، پاکستان کے علاوہ ترکیہ اور مصر بھی فریقین کو مزاکرات کی ٹیبل تک لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں.
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پچھلے چند روز کے دوران بعض دوست ممالک کی جانب سے پیغامات ملے ہیں کہ امریکا جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کا مطالبہ کررہا ہےجن کا ملک کے اصولی موقف کے تحت جواب دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اہلکار نے نام ظاہر کیے بغیر ایرانی میڈیا کو بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ روکی جائے تاہم ایران نے شرائط عائد کی ہیں جنہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
اہلکار نے نئے قانونی اسٹریٹجیک فریم ورک کے تحت چھ شرائط بتائیں، جن میں سے اولین جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی ہے۔دوسری شرط خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جانا ہے، تیسری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی ہے۔
چوتھی شرط تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جانا ہے، پانچویں آبنائے ہرمز کیلیے نئے قانونی رجیم پر عمل درآمد کیا جانا ہے اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کیخلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔
دوسری جانب آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران کے نقصانات پورے ہونے تک جنگ نہیں رکے گی،ان کا کہنا ہے کہ تمام پابندیاں ختم ہونے اور آئندہ حملے نہ ہونے کی عالمی گارنٹی لیں گے۔
محسن رضائی نے کہا کہ اس بار آنکھ کے بدلے سر لیں گے، امریکا کو خطے سے نکلنا ہوگا، ان کے سخت گیر موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے ایران اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا.
Comments are closed.