امریکہ کامزاکرات میں الجھا کرایران پرحملہ،جواب میں ایران کےامریکی اڈوں پرحملے
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد:امریکہ کامزاکرات میں الجھا کرایران پرحملہ،جواب میں ایران کےامریکی اڈوں پرحملے کئے گئے ہیں جس سے خطے میں صورتحال انتہائی کشید ہوگئی ہے،پاکستان پہلے ہی افغانستان کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے جہاں پاکستان کو امریکی جب کہ افغانستان کو بھارت اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے ،ہرطرف مرنے والے زیادہ تر مسلمان ہی ہیں۔
ایران پرامریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پرمشترکہ حملہ کیا گیا،ایرانی حکام کےمطابق حملوں میں ایران کے کئی سینیئرفوجی اورسیاسی رہنماجاں بحق ہوئے،صدارتی آفس،آرمی چیف ،وزرا،دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،پارچین ملٹری کمپلیکس اور وزارت انٹیلی جنس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دار الحکومت تہران پر فضا اورسمندر سے میزائل داغے گئے،صدارتی محل اور خامنہ کی رہائشگاہ کے قریب 7 میزائل گرے،ایرانی صدر اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای محفوظ رہے،،پینٹاگون نےایران کے خلاف آپریشن کو "ایپک فیوری” کا نام دیا۔
رائٹرز کےمطابق ایرانی دارالحکومت تہران میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا،تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ میں متعدد میزائل گرے،سید خاندان،ایرانی بندرگاہ چابہار پر بھی میزائل گرے،مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا،تہران اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ معطل کردی گئی ہے۔
پورے ملک میں موبائل سروس معطل ہوگئی،انٹرنیٹ کنیکشن کی رفتار بھی سست ہے،دھماکوں کی آواز سن کرلوگ افراتفری میں بھاگ رہےہیں،تعلیمی ادارے بند کردیے گئے، تمام کلاسز آن لائن منعقد ہونگی،
حملوں کا منہ توڑ جواب دیاہے، سپریم نیشنل سکیورٹی ایران
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ’منہ توڑ جواب‘ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کونسل نے کہا کہ یہ حملے ’ایک بار پھر مذاکرات کے دوران‘ کیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دشمن نے غلط طور پر یہ سمجھا کہ ایرانی عوام ایسے بزدلانہ اقدامات کے ذریعے ان کے معمولی مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔‘
سپریم کونسل نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج پہلے ہی جوابی اقدامات شروع کر چکی ہیں اور عوام کو ’مسلسل آگاہ رکھنے‘ کا وعدہ کیا۔
سپریم کونسل نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں تہران اور دیگر شہروں میں جاری رہ سکتی ہیں اور شہریوں سے کہا کہ ’پُرسکون رہتے ہوئے‘ جہاں ممکن ہو محفوظ علاقوں کا رخ کریں تاکہ خطرے سے بچ سکیں۔
کونسل نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت نے ’تمام سماجی ضروریات پہلے سے تیار کر رکھی ہیں‘ اور کہا گیا کہ ’ضروری اشیاء کی فراہمی کے حوالے سے کوئی تشویش والی بات نہیں ہے‘۔ اس لیے لوگوں کو ہجوم والے شاپنگ مراکز سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
Comments are closed.