امریکہ سے اچھے تعلقات کا دعویٰ،ویزا پابندیاں پاکستان پہ لگ گئیں، بھارت فہرست میں شامل نہیں

امریکہ سے اچھے تعلقات کا دعویٰ،ویزا پابندیاں پاکستان پہ لگ گئیں، بھارت فہرست میں شامل نہیں

فوٹو : فائل

اسلام آباد : پاکستان میں سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس امر پر شدید بحث جاری ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ عرصے میں تعلقات بہتر ہونے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بارہا تعریف، اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے باوجود پاکستان کا نام امریکی ویزا پابندیوں کی فہرست میں کیوں شامل کیا گیا۔

حالیہ مہینوں میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی تھی۔ پاکستان نے نہ صرف عالمی امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہا بلکہ انہیں نوبل امن انعام دینے کی سفارش بھی کی تھی۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے امریکہ کا دورہ کیا اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے موقع پر صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جنرل عاصم منیر کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی بات کی۔

ان خوشگوار سفارتی اشاروں کے باوجود امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا عمل معطل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آنے پر عوامی سطح پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امریکی ویزا پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت نے امریکی ویزے سے متعلق اطلاعات کا نوٹس لیا ہے اور اس معاملے پر امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔

ترجمان کے مطابق امریکہ اپنی ویزا پالیسی پر نظرِ ثانی کر رہا ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ جلد ہی پاکستانی شہریوں کے لیے امریکی ویزوں کی سہولت بحال کر دی جائے گی۔

ہم یہ سمجھتے رہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہیں

اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ سابق گورنر سندھ اور سینئر سیاست دان محمد زبیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’’ہم یہ سمجھتے رہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہیں جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، لیکن صورتحال یہ ہے کہ بھارتی شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ جاری رہے گی اور پاکستانیوں کے لیے نہیں۔‘‘

دوسری جانب اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسین ندیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس فہرست میں شامل رہنا طویل مدتی نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’امکان ہے کہ جائزے کے بعد یہ فیصلہ تبدیل کر دیا جائے گا، تاہم یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو ابتدا ہی سے ویزا فریز لسٹ میں شامل کیا تھا۔‘‘

جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے معروف امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق پاکستان ان 75 ممالک میں شامل ہے جن کے لیے امریکی ویزا عمل غیر معینہ مدت کے لیے معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی گرم جوشی بھی پاکستان کو اس فیصلے سے نہ بچا سکی۔ ان کے مطابق اس فہرست میں بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

دریں اثنا پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق امریکی قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے اس معاملے کا امریکی نقطۂ نظر سے مختلف تجزیہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور افغانستان میں سرگرم دیگر گروہوں کے خلاف امریکہ اور پاکستان کے درمیان کچھ مشترکہ مفادات موجود ہیں۔

جان بولٹن کے مطابق اگر امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے اور یہ احساس اجاگر کرے کہ چین پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی بڑا چیلنج ہو سکتا ہے جتنا بھارت کے لیے، تو یہ مستقبل میں تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں یقین نہیں کہ صدر ٹرمپ بھی اسی زاویے سے سوچتے ہیں، لیکن اگر وہ ان کے مشیر ہوتے تو یہی تجویز دیتے۔

امریکہ سے اچھے تعلقات کا دعویٰ،ویزا پابندیاں پاکستان پہ لگ گئیں، بھارت فہرست میں شامل نہیں

Comments are closed.