فوٹو : فائل
اسلام آباد : امریکہ اور بھارت کا بڑا تجارتی معاہدہ ، پس پردہ کہانی سامنے آگئی، بھارت نے شدید تناو کی صورت حال میں بھی سفارتی راستہ اختیار کیا اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو قائل کیا کہ بھارت امریکہ کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانا چاہتا ہے.
بھارت کی جانب سے یہ سفارتی پیش رفت اُس وقت کی گئی جب بھارت اور امریکا کے درمیان شدید تناؤ کا ماحول تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انڈیا مخالف سخت بیانات اور بھاری محصولات عائد کر رہے تھے.
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے مہینوں کی خاموش سفارت کاری، پردے کے پیچھے پیغامات اور اسٹریٹجک صبر کارفرما تھا۔
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی ستمبر 2025ء میں، چین میں روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے فوراً بعد، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو واشنگٹن بھیجا گیا تاکہ امریکا کے ساتھ بگڑتے تعلقات کو سنبھالا جا سکے۔
انڈین نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر (Indian National Security Advisor) اجیت دوول نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں واضح پیغام دیا کہ بھارت امریکا کے ساتھ تلخی ختم کر کے دوبارہ تجارتی معاہدے پر بات چیت چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے انڈین طیارے گراتے گراتے ٹیرف گرا دیا، بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے
امریکی وزیر خارجہ کو یہ بھی کہا کہ بھارت ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور اگر ضرورت پڑی تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت ختم ہونے کا انتظار بھی کر سکتا ہے.
یہی نہیں، رپورٹ کے مطابق اجیت دوول نے روبیو پر زور دیا کہ امریکا بھارت پر کھلی تنقید کم کرے تاکہ دوطرفہ تعلقات دوبارہ پٹری پر آ سکیں۔ اس وقت بھارت صدر ٹرمپ کے سخت بیانات اور اگست میں عائد کیے گئے 50 فیصد محصولات پر شدید ناراض تھا۔
اسی عرصہ کے دوران امریکہ کے صدر ٹرمپ نے بھارت کو مردہ معیشت قرار دیا اور کہا بھارت روسی تیل خرید کر یوکرین جنگ کی مالی معاونت کر رہا ہے، جبکہ اب نئے تجارتی معاہدے کے مطابق امریکہ بھارت کو وینیزویلا کا تیل فروخت کرے گا۔
Comments are closed.