افغانستان میں امریکہ کی 20 سالہ جنگ میں 763 ارب ڈالر خرچ ہوئے، رپورٹ جاری

افغانستان میں امریکہ کی 20 سالہ جنگ میں 763 ارب ڈالر خرچ ہوئے، رپورٹ جاری

فوٹو : فائل

نیویارک : افغانستان میں امریکہ کی 20 سالہ جنگ میں 763 ارب ڈالر خرچ ہوئے، رپورٹ جاری کر دی گئی، افغانستان جنگ و تعمیرِ نو پر امریکی انسپکٹر جنرل کی 20 سالہ حتمی رپورٹ میں امریکی پالیسیوں، افغان حکومت کی کرپشن اور اربوں ڈالر کے اخراجات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکا نے جنگی کارروائیوں پر اضافی 763 ارب ڈالر خرچ کیے۔ افغان سیکیورٹی فورسز پر 90 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ ہونے کے باوجود وہ غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ کر سکیں۔ امریکی انخلا کے فوراً بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں۔

رپورٹ میں افغان حکومتوں کی کرپشن کو تعمیرِ نو میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے، امریکا کے خصوصی انسپیکٹر جنرل برائے افغانستان ری کنسٹرکشن نے افغانستان میں 20 سالہ جنگ اور تعمیرِ نو سے متعلق اپنی حتمی رپورٹ دی ہے.

رپورٹ میں بتایا کہ امریکا نے 2002 سے 2021 کے دوران افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے 144.7 ارب ڈالر مختص کیے، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔افغانستان پر تعمیرِ نو کے اخراجات دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے لیے شروع کیے گئے مارشل پلان سے بھی زیادہ رہے، تاہم اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ افغان سیکیورٹی اداروں میں ہزاروں ’’گھوسٹ ملازمین‘‘ موجود تھے اور فورسز کے لیے مختص ایندھن بڑے پیمانے پر چوری ہوتا رہا۔ افغان فورسز کے لیے 147 ہزار گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات، 4 لاکھ 27 ہزار 300 ہتھیار اور 162 طیارے فراہم کیے گئے، تاہم انخلا کے بعد 7.1 ارب ڈالر مالیت کا عسکری سازوسامان افغانستان میں ہی چھوڑ دیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے افغانستان کے لیے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے۔ انسدادِ منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر اور اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، مگر دونوں ہی پروگرام غیر مؤثر اور مایوس کن ثابت ہوئے۔

افغانستان کی جنگ میں 2,450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ 20 ہزار 700 زخمی ہوئے۔ امریکی انخلا کے بعد افغان مہاجرین کو امریکا منتقل کرنے کے لیے 14.2 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سقوطِ کابل کے بعد امریکا نے چار سال کے دوران طالبان حکومت کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، جبکہ صرف مارچ 2025 کی ایک سہ ماہی میں طالبان کو 120 ملین ڈالر دیے گئے۔

امریکی انخلا کے بعد عالمی عطیہ دہندگان نے اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے منصوبوں کے لیے 8.1 ارب ڈالر فراہم کیے، افغان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے چھ منصوبے اب بھی فعال ہیں۔

Comments are closed.