اسرائیلی وزیراعظم منظر عام پر آگئے، ٹرمپ کو جنگ پر مجبور نہیں کیا، نیتن یاہو
فوٹو : اسکرین شاٹ
تل ابیب : اسرائیلی وزیراعظم منظر عام پر آگئے، ٹرمپ کو جنگ پر مجبور نہیں کیا، نیتن یاہو نے لائیو پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ 20 روز سے جاری جنگ کے بعد ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ سب سے پہلے تو کہا کہ ’میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں، اور آپ کے سامنے ہوں،۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنگ میں اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کے مطابق ’ہم جیت رہے ہیں اور ایران کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔‘ ایران کے میزائل اور ڈرونز کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ان صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔
بنجمن نیتن یاہو کے مطابق حملوں کا ہدف وہ فیکٹریاں ہیں جو میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے لیے پرزے تیار کرتی ہیں، ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔
اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں کیسے گھسیٹا؟امریکی ادارے کے سربراہ کے انکشافات
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات پہلے جاری تھے مگر ناکام ہو گئے، جس کے بعد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے۔ اس دوران ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک پر میزائل داغے اور آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی نقل و حرکت محدود کی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا ہوگا۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے، نیتن یاہو نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ وہ امریکا کو اس تنازع میں گھسیٹ رہے ہیں، اور کہا کہ کوئی بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کسی فیصلے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
NOW – Netanyahu: "First of all, I just want to say: I’m alive, and you’re all witnesses.” pic.twitter.com/DWi7ZwfrHc
— Disclose.tv (@disclosetv) March 19, 2026
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں نہیں گھسیٹا اور کہا کہ ’کیا کوئی واقعی ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے؟‘
انھوں نے کہا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی ’جتنی دیر تک ضروری ہو‘ٹرمپ نے کہا تھا کہ خطے میں تاحال امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی کارروائی ’شیڈول سے آگے‘ چل رہی ہے.
نیتن یاہو نے ایران جنگ میں اسرائیل کے تین اہداف ظاہر کیے ہیں: ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ اور ایرانی عوام کے لیے ’آزادی حاصل کرنے کے لیے‘ حالات پیدا کرنا۔
Comments are closed.