آپریشن غضب للحق میں 297 طالبان رجیم کے اہلکار و خوارج ہلاک، ڈی جی آئی ایس پی آر
فوٹو : آئی ایس پی آر
راولپنڈی : آپریشن غضب للحق میں 297 طالبان رجیم کے اہلکار و خوارج ہلاک، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کے زخمیوں کی تعداد 450 سے زائد ہے،
طالبان رجیم کے تباہ کیے جانے والے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 135 ہوگئی ، 89 طالبان چوکیوں کو مکمل تباہ کردیا گیا۔ 18چوکیاں پاکستان کے قبضے میں آ گئیں۔
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں آپریشن غضب للحق کی تفصیلات بتائیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا افغان طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ قلعہ سیف اللّٰہ سیکٹر میں افغان طالبان کی اعلیٰ جرگہ تھانا پوسٹ تباہ کر دی، رحیم تھانا پوسٹ بھی تباہ، نوشکی سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹ اڑا دی۔ کارروائی میں افغان طالبان کے اوماری کیمپ کو بھاری نقصان ہوا۔ افغان طالبان کی خیبر پوسٹ کو بھی مکمل تباہ کر دیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائی میں افغان طالبان کے کانڈکسی بیس چترال کو شدید نقصان پہنچا۔ پاک فوج نے نیو افغان 8 پوسٹ تباہ کردی۔ افغان طالبان کے فوجی آریانہ کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ تباہ کو تباہ کردیا جبکہ افغان پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکرخیل پوسٹ بھی تباہ کردیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے افغان طالبان فورسز کو چیک پوسٹیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کردیا، پاک فوج نے زؤبا سیکٹر میں افغان گالف پوسٹ تباہ کردی۔ ڈیلٹا پوسٹ بھی تباہ کردی گئی۔ زؤبا سیکٹر ساؤتھ کمپلیکس کے قریب افغان طالبان کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا۔
اس سے پہلے آپریشن غضب للحق کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 افغانی بٹالین اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر مکمل تباہ اور اسلحہ ڈپو کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا، مؤثر جوابی کارروائی میں 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند تباہ کر دیں، وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 3 زخمی ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کواڈ کاپٹر کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی فیصلہ کن کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس کو مکمل تباہ کرنے کے بعد افغان طالبان نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا۔
پاکستان نےافغانستان کے پکتیا کے علاقے میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لگا دیا۔
قندھار میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ایمونیشن ڈپو، لاجسٹکس بیس تباہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملکی سلامتی اور خود مختاری یقینی بناتے ہوئے افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے، پاک فوج نے افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو کامیابی سےتباہ کر دیا ہے، اس کے علاوہ قندھار میں افغان طالبان کے ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹکس بیس بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے حملے جاری ہیں، ننگرہار میں بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ کر دیا گیا، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹیں ہدف بنائی گئی ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے انگور اڈہ میں ایک اور افغان پوسٹ کو تباہ کر دیا، جبکہ افغان صوبے پکتیکا کی پوسٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج افغان طالبان کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہے، افغان طالبان پوسٹس چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے کارروائی کر کے افغان طالبان کی داؤد پوسٹ تباہ کر دی، افغان طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی۔
Comments are closed.